گورنر ہاؤس میں دو روزہ پنجاب ٹالرنس سمٹ کا انعقاد

3 مارچ  جمعرات تا 4 مارچ جمعہ 2022

گورنر ہاؤس میں دو روزہ پنجاب ٹالرنس سمٹ کا کامیاب انعقاد رپورٹ: ظاہر محمود لاہور گورنر ہاؤس میں صوبائی وزارت اقلیتی امور و بین المذاہب ہم آہنگی اور یوتھ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے باہمی تعاون سے دو روزہ پنجاب ٹالرنس سمٹ کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر سے ہنرمند نوجوانوں نے بھرپور شرکت کی اور مختلف سیشنز میں شریک ہوئے۔ دو روزہ سمٹ کے پہلے روز کا باقاعدہ آغاز صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور و بین المذاہب ہم آہنگی جناب اعجاز عالم آگسٹن نے افتتاحی ریمارکس سے کیا اور شرکا کو اس سمٹ کے اغراض و مقاصد اور اپنی وزارت کی اس سلسلے میں اہم کامیابیوں کا بتایا۔

اس کے بعد یوتھ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جناب شاہد رحمت نے پنجاب میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی اور عدم برداشت کے حوالے سے یوتھ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کی طرف سے کیے گئے اقدامات کا ذکر کیا اور بتایا کہ کس طرح یوتھ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن پنجاب میں عدم برداشت سے پیدا ہونے والے مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لیے کارکردگی سرانجام دے رہی ہے۔ پہلے سیشن کے اختتام پہ مہمانان خصوصی چیئرپرسن شعبہ سوشل ورک جامعہ پنجاب پروفیسر ڈاکٹر مہناز حسن اور وائس چانسلر بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور ہمارے معاشرے میں بڑھتے شدت پسندانہ رویوں کے تدارک اور حل کے لیے حکومت کے اقدامات کا ذکر کیا۔

پروفیسر ڈاکٹر مہناز حسن نے کہا کہ کم کرپشن، گڈ گورننس، ہمسایوں سے بہتر تعلقات اور اچھے معاشی مواقع پیدا کیے بغیر کسی بھی ملک میں امن اور رواداری پیدا نہیں کی جا سکتی جبکہ پروفیسر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی نے کہا کہ وہ اکثر اپنے اساتذہ سے تمام طلبا کو گرجا گھروں، مندروں اور گوردواروں میں لے جانے کا کہتے ہیں تا کہ طلبا کو دوسرے مذاہب کے بارے میں بھی علم حاصل ہو۔ دوسرے سیشن میں پنجاب پالیسی برائے بین المذاہب ہم آہنگی کے بارے میں سیر حاصل گفتگو اور مباحث کیے گئے۔

پنجاب پالیسی برائے بین المذاہب ہم آہنگی آنے والے دور میں صوبہ بھر سے شدت پسندی اور عدم برداشت کو ختم کرنے کے لیے وضع کی گئی اب تک کی موثر ترین اور جامع پالیسی ہے جس میں تمام مذاہب کے لوگوں کو پرامن بقائے باہمی اور اخوت کے ساتھ رہنے کے لیے عملی اقدامات وضع کیے گئے ہیں۔ اس سیشن کی نظامت معروف صحافی مبشر شیخ نے کی جبکہ اس سیشن کے مہمانان خصوصی میں علامہ راغب نعیمی، ڈاکٹر کلیان سنگھ کلیان، سعدیہ سہیل اور چرچ آف پاکستان کے بشپ شامل تھے۔

انھوں نے اپنے اپنے خطاب میں بین المذاہب ہم آہنگی کی قدر و قیمت اور ضرورت و اہمیت پر بیان دیے۔ انھوں نے بتایا کہ وطن عزیز میں پرامن بقائے باہمی کے لیے تمام مذاہب اور مسالک کے لوگوں کا آپس میں برداشت اور رواداری کے ساتھ رہنا کتنا ضروری ہو گیا اور یہ بھی بتایا کہ اس پالیسی سے اس بات کا ببانگ دہل اظہار ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت اس عزم کو لے کر کس قدر سنجیدہ ہے۔ پہلے روز کے تیسرے سیشن کی میزبانی پروفیسر ڈاکٹر مہناز حسن نے کی جبکہ مہمان سپیکرز میں قومی نصاب کونسل سے سہیل بن عزیز اور رفیق طاہر جبکہ سنٹر فار سوشل جسٹس سے پیٹر جیکب شامل تھے۔

سہیل بن عزیز نے کہا کہ واحد قومی نصاب ہماری قومی کامیابی کی طرف واحد پہلا قدم ہے جس کی کامیابی سے ہمیں بہت امیدیں وابستہ ہیں۔ رفیق طاہر نے بات کرتے ہوئے کہا کہ واحد قومی نصاب کے لیے انھوں نے سب سے پہلے ایک اے لیول کے طالب علم، انٹرمیڈیٹ کے طالب علم اور مدرسہ سے فارغ التحصیل ہونے والے طالب علم میں ایک مباحثہ کروایا جس سے انھیں اندازہ ہوا کہ ہمیں واحد قومی نصاب بنانے میں کس قسم کے مسائل کا سامنا ہے۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ نصاب تیار کرنے کے بعد اس کا موازنہ سنگاپور اور کیمبرج کے نصاب کے ساتھ بھی کیا گیا اور یہ دیکھا گیا کہ ہمارا تیار کردہ نصاب کس قدر متوازن ہے۔ پیٹر جیکب نے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب تک تمام طلبا کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے برابر مواقع نہیں ملتے تب تک ایسے سب اقدامات سے خاطر خواہ کامیابی ملنا ناممکن ہے۔ گورنر ہاؤس پنجاب میں منعقدہ دو روزہ پنجاب ٹالرنس سمٹ کے دوسرے روز تین اہم سیشنز کا انعقاد ہوا۔

پہلا سیشن یوتھ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شاہد رحمت نے ماڈریٹ کیا۔ جبکہ اس سیشن کے مہمان خصوصی اسلامی نظریاتی کونسل کے سیکرٹری ڈاکٹر حافظ اکرام الحق تھے۔ اس سیشن میں بین المذاہب ہم آہنگی میں علما کے کردار پر گفتگو کی گئی اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے مذہبی رہنماؤں کو بھی بلایا گیا جن میں گورمیت سنگھ، ڈاکٹر رمیش کمار، چرچ آف پاکستان کے بشپ جمیل پال، شنیلہ رتھ اور عبد الماجد وٹو شامل تھے۔

اس سیشن میں بتایا گیا کہ مذہبی رہنما کس طرح عوام میں بڑھتے شدت پسندانہ رویوں کو روکنے یا ختم کرنے میں ممد و معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر اکرام الحق نے کہا کہ ہمارا دستور سب مذاہب کے لوگوں کو برابر کے حقوق دیتا ہے بلکہ پاکستان میں تمام غیر مسلموں کو دو دفعہ ووٹ دینے کا حق بھی ہے جو مسلمانوں کو حاصل نہیں۔ باقی تمام مقررین نے بھی اپنے اپنے مذاہب کے دائرہ کار میں دوسروں کے حقوق، رواداری اور اخوت کے درس پر سیر حاصل گفتگو کی۔

دوسرے سیشن کی ماڈریشن پھر یوتھ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شاہد رحمت نے ہی کی جبکہ اس سیشن کے مہمانان خصوصی میں معروف کاروباری شخصیات شہزاد خان، رضا علی، رباب زینب اور معروف خواجہ سرا ایکٹوسٹ سارو عمران شامل تھے۔ اس سیشن میں نوجوانوں کی مختلف شعبہ جات میں دلچسپی اور کردار پر بات کی گئی۔ شہزاد خان نے بات کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے پاس اپنے مسائل اور خیالات کے اظہار کے لیے مناسب پلیٹ فارم نہیں، سوشل میڈیا پر آپ سنجیدہ مباحث کریں تو کوئی اس طرف توجہ نہیں دیتا، نیز ہمارے پاس ملالہ یوسف زئی جیسے ہیروز کی بھی شدید کمی ہے جس سے نوجوانوں کو اپنی راہیں متعین کرنے میں بھی بہت دقت پیش آتی ہے۔

رضا علی نے کہا کہ ہماری جامعات میں طلبا کو کوئی مہارت نہیں سکھائی جاتی جس کی وجہ سے وہ جب عملی زندگی میں داخل ہوتے ہیں تو ان کی کوئی سمت متعین نہیں ہوتی۔ رباب زینب نے معاشرے میں مثبت روایات کے ساتھ بدلاؤ کی ضرورت و اہمیت پر گیان دیا جبکہ خواجہ سرا ایکٹوسٹ سارو عمران نے کہا کہ خواجہ سرا ہمیشہ اپنے حقوق کی بات تو کرتے ہیں مگر وہ کبھی اپنی ذمہ داریوں کی بات نہیں کرتے، جب تک تمام خواجہ سرا کمیونٹی اپنی ذمہ داریوں کا تعین نہیں کرتی، انھیں معاشرے میں پروقار اور باعزت مقام حاصل کرنا بہت مشکل رہے گا۔

تیسرے اور آخری سیشن کی نظامت پروفیسر ڈاکٹر مہناز حسن نے کی جبکہ اس سیشن کی مہمان خصوصی پارلیمانی سیکرٹری برائے امور خواتین پنجاب میڈم ثانیہ کامران تھیں۔ اس سیشن میں خواتین کے معاشرے میں کردار، مواقع اور ان کے کامیابیوں پر بحث ہوئی۔ اس سیشن کے اختتام پر اس دو روزہ سمٹ کی مہمان اعزاز بیگم گورنر پروین سرور نے خطاب کیا اور بتایا کہ انھوں نے گورنر ہاؤس آتے ہی خواتین کی فلاح و بہبود پر کام شروع کیا جو ابھی تک بھرپور کامیابی کے ساتھ جاری و ساری ہے۔

اپنے خطاب کے بعد انھوں نے یوتھ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے تمام اراکین میں اعزازی شیلڈز اور سرٹیفیکیٹ تقسیم کیے۔ سمٹ کے آخری لمحات میں وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے مذہبی امور مولانا طاہر اشرفی اور ممبر قومی اسمبلی میاں اسلم اقبال نے بھی شرکت کی۔ مولانا طاہر اشرفی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رواداری اور اخوت جس شخص میں پیدا ہو جائے وہ کبھی ناکام نہیں ہوتا اور جس میں یہ خصوصیات نہ ہوں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔

انھوں نے وزیراعظم کی بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے کی گئی کاوشوں کا ذکر کیا اور پھر میاں اسلم اقبال نے نوجوانوں میں برداشت، اخوت، مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کے موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی۔ دو روزہ پنجاب ٹالرنس سمٹ کے تمام سیشنز میں پورے پاکستان سے نوجوانوں کے کئی وفود نے شرکت کی اور پاکستان اور پنجاب میں بڑھتی انتہاپسندی، عدم برداشت اور مذہبی شدت پسندی کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل، ان کے تدارک اور حل کے لیے سیر حاصل مباحث کیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Donate

For More Information, Get in Touch